Sad Poetry In Urdu 2 Lines

نازک لگتے تھے جو حسین لوگ .. مرشد واسطہ پڑا ——— تو پتھر نکلے ..
|
Sad Poetry
 |
| Sad Poetry in Urdu |
بے وفائی کا دکھ نہیں مجھے
مرشد
بس کچھ لوگ ایسے تھے جن سے امیدیں بہت تھی
 |
| Sad Poetry |
لوگ جدا ہوئے اور بھی
مرشد
ایک ان کا جدا ہونا مجھ کو ویران کر گیا
 |
| Sad Poetry |
ان فاصلوں کے پیچھے
سب فیصلے تمھارے تھے۔
 |
| Urdu Sad Poetry |
اور کتنی کروں اداکاری ؟
مرشد
خون لگتا ہے مسکرانے میں
 |
| Sad Poetry In Urdu |
کسی کی عادت ہوجانا۔۔۔
مرشد
محبت ہوجانے سے زیادہ خطرناک ہے۔۔۔
 |
| Sad Poetry In urdu |
پہچان اگر ہیرے کی کرنی ہے,,تو اندھیرے کا انتظار کرنا سیکھ
ورنہ ,اجالے میں تو کانچ کے ٹکرے بھی چمکتے ہیں
 |
Sad Poetry In urdu
|
خواہشیں پوری ہوں سبھی یہ ضروری نہیں !
مرشد
!!ادھورے ارمان بھی تو_زندگی کا_حصہ ہیں
 |
Sad Poetry In urdu
|
محبت مجبور کرتی ہے، مرشد
ورنہ تجھے یاد کرنے سے ثواب تھوڑی ملتا ہے
 |
Sad Poetry In urdu
|
خاموشی اتنی گہری تو ہونی چاہیئے کہ مرشد
بے قدری کرنے والوں کی چیخیں نکل جائیں
 |
Sad Poetry In urdu
|
اداسی کھا گئی شباب کومرشد
ورنہ بہت دلکش تھے ہم..
 |
Sad Poetry In urdu
|
حال دل کا اسے سناتے ہوئے
رو پڑا تھا مرشد میں مسکراتے ہوئے
 |
| Sad Poetry |
"نہ پوچھتے ہو نہ سوال کرتے ہو.
بس روٹھتے ہو __ کمال کرتے ہو"
.png) |
| SAD POETRY |
کتنا بے وفا بے رحم مطلبی تھا وہ ایک شخص
دل جلانے کے لئے ۔دل لگانے پر مجبور کیا ہم کو۔
.png) |
| Sad Poetry |
جس نے مرُدے کو جلایا وہ تو کافر ٹہرا
عشق زندوں کوجلاتا ہے, ہے کوٸ فتویٰ'
.png) |
| 2 line Poetry |
ضد نہ کر میری داستان سننے کی
میں ہنس کر بھی سناؤں گا تو تو رو پرے گا
تو ساتھ نہیں میرے مقابل ہی کھڑا رہ
اتنی تو تسلی ہو کہ تنہا نہیں ہوں میں
تُو جن کو آنکھوں کے حلقے سمجھ رہا ہے نہ
یہ عمر بھر کی تمناؤں کے جنازے ہیں
اس نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا
اسے لگا کچے مکاں میں عیش و آرام کہاں
ﺑﮭﻼ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺻﺒﺮ ﺗﻮ ﮐﯿﺠﺌﯿﮯ
ﺁﭘﮑﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﺗﻮ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ.
اے عشق ! جنت نصیب نہ ھوگی تجھے
بڑے مصوم لوگوں کو تونے برباد کیا ھے
اس کو کیا پڑی کہ وہ مجھے آ کر مناۓ
وہ تو کہتا ہو گا ,,جان چھوٹی,, بھاڑ میں جاۓ
" وہ جو تقدیر میں____ نہیں لکھے ہوتے.
" ان ہی کی آرزو کو___'' عشق'' کہتے ہیں.
قسمت کھیل نہیں کھیلتی بعض اوقات ۔۔
انسان ، انسانوں سے کھیل جاتے ہیں
اتنی امید مجھے بھی نہیں تھی
جتنے وہ یاد آنے لگے ہیں
بے حِساب حسرتیں نہ پالیئے
جو مِلا ھے اُسے سنبھالیئے.
تجھے اجاڑ کر بھی ترس نہیں آیا
لوگ میری داستاں سن کے روپڑتے ہیں
کچھ ایسے پھول بھی گزرے ہیں میری نظروں سے
جو کھل کے بھی نہ سمجھ پائے زندگی کیا ہے
کہیں میں دیر سے پہنچوں تو یاد آتا ہے
کہیں میں وقت سے پہلے بھی جایا کرتا تھا
چڑھ جائے تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتر تا ہی نہیں ۔۔۔
یہ عشق بھی ۔۔۔۔غریب کے قرض جیسا ہے ۔۔۔۔
خود کو کیا سجاؤں۔۔۔۔
!اے مرشد
دل میں ویرانیاں بڑی ہیں
اس نے تو ہمیں کب کا فراموش کر دیا
صاحب
ہم ہیں کہ اسکی زات سے آگے نہیں گئے
_”بچھڑ جانا تو مقدر تھا ہمارا مگر
خدا ہمیشہ سلامت رکھے اُس کو
چلو چھوڑو مرشد دنیا کی بے رخیاں
وہ سامنےدیکھو قبرستان میں کتنا سکون ہے
تیری یاد میں ایک پاگل سا شخص_
آج امام سے پہلے سلام پھیر بیٹھا
درد۔ لکھتے رہے۔۔۔۔۔۔۔آہ بھرتے رہے۔۔
لوگـــــــ پڑھتے رہےاور ۔۔۔۔۔واہ۔واہ ۔۔۔کرتے رہے
ریزہ ریزہ کر کے بیکھیر دیتی ہے...
مرشد
بے پرواہ لوگوں سے _" بے پناہ محبت"
تمہیں بے وفا کہنے کی جرات تو نہیں لیکن__!!
اتنا ضرور کہنا ہے_ کہ وفائیں یوں نہیں ہوتیں
چھوڑ دیا اُنھوں نے یہ سوچ کر
صاحب
کہ غریب شخص ہےمحبت کہ سوا کیا دے گا
اُسے دکھ ہی نہیں جدائی کا...
مرشد
بس یہی دکھ کھا گیا ھے مجھے..
کبھی جو پڑھتے تھے اداس کہانیاں..
آج اپنی ہی زندگی کا عنوان لگتی ہیں
میری زندگی میں ایک شخص اتنا اہم ہو گیا
اسے ہم سے محبت ہے ہمیں یہ وہم ہوگیا
مایوس ہو گیا دل اس زندگی کے سفر سے۔۔!!
مقصد کی محبتیں ہیں اور مطلب کی یاریاں۔۔!!
زندگی بھر کے امتحان کے بعد_
مرشد
وہ نتیجے میں کسی اور کا نکلا_
ہم وہ آنا پرست ہیں جو ہار کے بھی کہتے ہیں
مرشد
وہ منزل ھی بدنصیب تھی جو ہمیں پا نہ سکی
کردار کی خوبصورتی کو کبھی گرنے نہیں دیا
مرشد
دھوکے بہت کھائے مگر کبھی دھوکا نہیں دیا
کھو گئے تو پچھتاؤ گے بہت
صاحب
مجھے تو لوٹ آنے کی عادت بھی نہیں
.*گلہ یہ نہیں کے ہمارے خلاف بولتے ہیں لوگ.
مرشد
افسوس یہ ہےانہیں بولنا ہم نے سکھایا تھا*
پھر یوں ہوا کہ کٹ گئی تیرے بغیر بھی
اجڑی ہوئی لٹی ہوئی ویران زندگی,,,
یاد تو آتے ہو ہر روز ، مگر تجھے آواز نہیں دیں گے
مرشد
لکھیں گے تیرے لیئے ہر شعر مگر تیرا نام نہیں لیں گے
آج بھی پیاری ھے مجھے تیری ہر اک نشانی
مرشد
پھر چاہے وہ دل کا درد ہو یا آنکھوں کا پانی
تمھاری ناراضگی کے ڈر سے میں جو ہر بات مان لیتا ہوں.
کبھی تم کو محبوب سمجھ کرکبھی خود کو مجبور سمجھ کر...
"صاحب چھوڑ دیا اس کا انتظار کرنا ہمیشہ کے لیے
"جب رات گزر سکتی ہے تو زندگی بھی گزر جاے گی
عشق دا روگ برا اے لوکو رب نہ کسے نوں لاوے
سچ کیندے نے موت آجاوے پر دل نہ کسے تے آوے
جسں کو بھی خبر ملی اس نے یہی گلہ کیا
صاحب
کیوں کر لی تم نے محبت تم تو سمجھدار تھے.
افسوس کے میرے سچے آنسوں بھی تیری چاہت کو خرید نہ سکے
لوگوں کی جھوٹی ہنسی نے تجھے آپنا بنا لیا
اس کے لوٹ آنے کی ___کوئی اُمید نہیں باقی
اس کو دیکھا ہے میں نے کسی اور سے دل لگاتے ہوتے...
تنہائیوں میں سکون ہے دوست...
محفلوں میں دل ٹوٹ جاتے ہیں...
""خدا نوازے تجھے مجھ سے بہتر
""مگر تو.....میرے لیے ترسے...
آؤ آنکھیں ملا کے دیکھتے ہیں،,
کون......کتنا اداس رہتا ہے ,,,
مرشد لفظِ عشق بھی بدنام ہو گیا!
جب سے وہ شخص مجھ کو جان کر انجان ہو گیا
خاموشیوں کو سمجھنا سیکھیں جناب
ٹوٹے ہوئے لوگ لفظوں کا استعمال نہیں کرتے
وہی رات بھر تذکرہ تھا تمہارا،
وہی نیند بیٹھی رہی منہ بنا کے..
آہستہ آہستہ"ختم" ہو جائیں گے_
غم نہ سہی"ہم"ہی سہی
نشہ تھا اسکی_جھوٹی باتوں میں..
وہ وقت گزارتے رہے اور ہم عادی ہوتے گئے...
چوٹی عمر میں ہی دل لگا بیٹھے تھے ہم ۔
. مرشد .
ہمیں کیا پتا تھا کے نشہ شراب کا ہی نہیں ۔یار: کا بھی ہوتا ہے ،
تیرے غرور کو دیکھ کر تیری تمنا ھی چھوڑ دی ھم نے
زرا ھم بھی دیکھیں کون چاھتا هے تمیں ھماری طرح
اپنی ہی محبت سے مکرنا پڑا مجھے..
صاحب
جب دیکھا اسے روتا ہوا کسی اور کیلئے
بات یہ ہے کہ لوگ بدل گئے ہیں.
مرشد
ظلم یہ ہے کہ وہ مانتے بھی نہیں.
کبھی گھنٹوں میں ہوتی تھی باتیں..
مرشد
اب عرصے سے اجنبی ہیں ہم...
اتنے پیارسے چاھا جائےتو پتھر بھی اپنےھوجاتے ھیں
"دوست"
ناجانے یہ مٹی کے انسان اتنےمغرور کیوں ھوتےھیں
مجھے اُس کی آواز کا مرہم چاہیے.
مُرشد اُسے کہو نہ میرا نام پکارے
منایا نہیں گیا مجھ سے اس بار
مرشد
اس کی ناراضگی میں آباد کوئی اور تھا
لوگ کہتے ہیں بھول کر اسے نئی زندگی شروع کر
مرشد
وہ روح پر قابض ہے مجھے کسی اور کا ہونے نہیں دیتا
تجھے اجاڑ کر بھی ترس نہیں آیا
لوگ میری داستاں سن کر روتے ہیں
دل کو تیری یادوں کے سہارے لگا کر
خود ڈوب جائیں گے تجھے کنارے لگاکر
لوگ کہتے ھیں دل سمندر سے بھی گہرا ھوتا ھے
میں حیران ھو اس میں تیرے سوا کوئی بسا ھی نھیں
برباد بستیوں میں،کسے ڈھونڈھتے ہو تم؟؟
اجڑے ہوئے لوگوں کے ٹھکانے نہیں ہوتے۔۔۔!
نفرت ہے تو کہہ دیتے ہم سے
غیروں سے مل کر دل کیوں جلاتے ہو
آواز نہیں آئی لیکن خدا کی قسم
غور تو کیجیے دل ٹوٹ گیا ہے
مرشـد ہمـاری زندگـی میـں اتنـے دکـھ ہیـں کـہ
ہمـاری اگلـی نسـل پڑھـے گـی الف سـے اُداسـی
خاص تھے کبھی ہم بھی کسی کی نظر وں میں# ,,
مگر #نظروں کے تقاضے بدلنے میں دیر کہاں لگتی ھے ,
میرا چہرا میرے غموں کی ترجمانی کیسے کرے
بچھڑنے والے کے آخری الفاظ۔۔تھے مسکراتے رہنا
محبت میں اجڑے لوگ-یقین کیجیے
کم سوتے ہیں زیادہ روتے ہیں.
Sad poetry in Urdu by Wasi Shah, Ahmad Faraz, and Johan Elia are very popular in Pakistan. So in this post, I have covered the sad poetry of all these poets in Urdu with HD images in 2 lines. |